فهرس الكتاب

الصفحة 1768 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: اونٹوں کو کس طرح نحر کیا جائے؟

1768 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ وَهِيَ بَارِكَةٌ فَقَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

جناب زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں منٰی میں سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ تھا کہ وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ اپنی اونٹنی کو نحر کرنا چاہ رہا تھا جبکہ وہ بیٹھی ہوئی تھی ۔ تو سیدنا ابن عمر ؓ نے فرمایا " اسے کھڑی کرو ، ( ایک ) پاؤں بندھا ہوا ہو ، یہی محمد ﷺ کی سنت ہے ۔ "

فرامین رسول ﷺ اورآپ کےافعال کی اتباع کامل ہی کا نام دین ہے ۔ صحابہ کرام کی سیرتیں یہی بتاتی ہیں ۔وہ ہمیشہ اس کے داعی رہے اور قیامت تک کے لیے یہی اٹل اصول ہے ۔ صریح نصوص کےہوتے ہوئے رائے خیال رجحان اور فتویٰ کا کیا مقام !؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت