1793 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمسَيِّبِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَهِدَ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ يَنْهَى عَنْ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ
سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کے مرض الموت میں سنا ہے کہ آپ ﷺ حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع فرماتے تھے ۔
امام منذری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب کا حضرت عمر سے سماع صحیح ثابت نہیں ہے ۔ (عون ) اس لیے یہ روایت صحیح نہیں ۔لیکن ہمارے محقق شیخ زبیر علی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔ اس اعتبار سے اس میں نہی استحباب کے لیے ہوگی اور اس سے مطلب یہ ہوگا کہ استطاعت ہونے پر پہلے حج کیا جائے کیونکہ وہ بڑا فریضہ ہے اور زیاد ہ اہم ہے۔ ورنہ خود نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنے حج سے پہلے دوعمرے کیے تھے ۔