فهرس الكتاب

الصفحة 1803 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: حج قران کے احکام ومسائل

1803 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَعْنَى قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لَهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ عَلَى الْمَرْوَةِ زَادَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ لِحَجَّتِهِ

سیدنا ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ؓ نے ان سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے مروہ پر ایک بدوی کے تیر ( کے پھل ) سے رسول اللہ ﷺ کے بال کاٹے تھے ۔ حسن بن علی کی روایت میں اضافہ ہے " حج کے موقع پر ۔ "

(1) حضرت معاویہ نے یہ خدمت حج کے موقع پر نہیں بلکہ عمرہ جعرانہ کے موقع پر سر انجام دی تھی ۔جیسے کہ سنن نسائی کی روایت میں [فی عمرتة ] کی صراحت ہے ۔ (سنن نسائی مناسک الحج حدیث:2990) اور حج کےموقع پر کی تعبیر یاتومجاز ہے یا وہم ۔ واللہ اعلم . (2) عمرے میں صفا مروہ کی سعی کے بعد آدمی بال کتروا کر حلال ہوتا ہے ۔ جبکہ عورتوں کو ایک پورا برابر بال کاٹنا کافی ہوتے ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت