1829 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَا يَجِدُ الْإِزَارَ وَالْخُفُّ لِمَنْ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا حَدِيثُ أَهْلِ مَكَّةَ وَمَرْجِعُهُ إِلَى الْبَصْرَةِ إِلَى جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْهُ ذِكْرُ السَّرَاوِيلِ وَلَمْ يَذْكُرْ الْقَطْعَ فِي الْخُفِّ
سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا " جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے اور جس کے پاس جوتے نہ ہوں وہ موزے پہن لے ۔ " امام ابوداؤد ؓ نے کہا: یہ اہل مکہ کی روایت ہے اور اس کا محور اہل بصرہ میں سے جابر بن زید ؓ ہیں ۔ اس روایت میں انفرادیت یہ ہے کہ اس میں «سراويل» ( شلوار ) کا ذکر ہے اور موزوں کے بارے میں کاٹنے کی ہدایت نہیں ہے ۔
عذرکی صورت میں شلوار اور موزوں پہننا جائز ہے اور اس میں کوئی فدیہ وغیرہ لازم نہیں آتا ۔موزون سے متعلق بحث حدیث 1823 کے فوائد میں گزر چکی ہے ۔