فهرس الكتاب

الصفحة 1875 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: بیت اللہ کے کونوں کو ہاتھ لگانے کا بیان

1875 حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أُخْبِرَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنَّ الْحِجْرَ بَعْضُهُ مِنْ الْبَيْتِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّ عَائِشَةَ إِنْ كَانَتْ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتْرُكْ اسْتِلَامَهُمَا إِلَّا أَنَّهُمَا لَيْسَا عَلَى قَوَاعِدِ الْبَيْتِ وَلَا طَافَ النَّاسُ وَرَاءَ الْحِجْرِ إِلَّا لِذَلِكَ

سیدنا ابن عمر ؓ کو سیدہ عائشہ ؓا کا یہ بیان بتایا گیا کہ حجر ( حاء کے کسرہ کے ساتھ ، یعنی حطیم ) کا کچھ حصہ بیت اللہ میں سے ہے ، تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی ! میرا خیال ہے کہ سیدہ عائشہ ؓا نے اگر یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی ان ( شامی ) ارکان کا استلام ( مس کرنا ) صرف اسی لیے ترک فرمایا تھا کہ یہ بیت اللہ کی اصل بنیادوں پر نہیں ہیں ۔ اور لوگ بھی حجر ( حطیم ) کے باہر سے اسی بنا پر طواف کرتے ہیں ۔

اگر حجر اور حطیم کے اندر کی طرف سے طواف کیاجائے تو پورے بیت اللہ کاطواف نہ ہوگا۔اس لئے اس کا طواف باہر سے کرنا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت