1876 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَنْ يَسْتَلِمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ فِي كُلِّ طَوْفَةٍ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ
سیدنا ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ طواف کے کسی چکر میں بھی رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام ( یعنی اسے مس کرنا ) نہ چھوڑتے تھے ۔ ( نافع نے ) کہا: اور سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔
حجر اسود کو چومنا یا ہاتھ لگا کر ہاتھ کوچومنا ہوتا ہے۔اور رکن یمانی کو صرف ہاتھ لگانا سنت ہے۔نہ کہ ہاتھ چومنا ازدحام یا کسی اور رکاوٹ کی بنا پر حجر اسود کو ہاتھ یا چھڑی سے مس کرکے اس ہاتھ یا چھڑی کو بوسہ دیا جائے یا صرف ہاتھ کا اشارہ بھی کافی ہوجاتا ہے۔ مگر رکن یمانی تک پہنچنا مشکل ہو تو ویسے ہی گزرجائے مزید کسی عمل کی ضرورت نہیں۔