1904 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ قَالَ إِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَإِنْ أَسْعَ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے صفا اور مروہ کے درمیان پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن ! میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ چل رہے ہیں جبکہ لوگ دوڑ رہے ہیں ۔ ( کیوں ؟ ) انہوں نے کہا: اگر میں چلوں تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چلتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اور اگر میں دوڑوں تو میں نے آپ ﷺ کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے ، اور میں ( اب ) بوڑھا ہو گیا ہوں ۔
یعنی صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا) چاہیے۔لیکن اگر کوئی بیماری یا شدید بڑھاپے کی وجہ سے دوڑ نہ سکے تو اس کے لئے چلنا بھی کفایت کرجائے گا۔واللہ اعلم۔