فهرس الكتاب

الصفحة 1922 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: عرفات سے واپسی کا بیان

1922 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ وَدَفَعَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ

سیدنا علی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: پھر آپ ﷺ نے اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا ۔ پھر آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر درمیانی چال ( عنق ) سے روانہ ہوئے اور لوگ دائیں بائیں اونٹوں کو پیٹ رہے تھے ۔ آپ ﷺ ان کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے اور فر رہے تھے " لوگو ! سکون کے ساتھ ! " اور آپ ﷺ عرفات سے سورج غروب ہونے کے بعد روانہ ہوئے ۔

سنن ابی دائود کے اکثر نسخوں میں (لايلتفت اليهم) کالفظ آیا ہے۔مگر بذل المجہود میں مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری نے لکھا ہے۔کہ جامع ترمذی مسند احمد اور سنن بہیقی کی بعض اسانید میں لفظ لا موجود نہیں ہے اس طرح کوئی اشکال نہیں رہتا۔مگر مسند احمد کی سند میں (لايلتفت) ہی آیا ہے۔جبکہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح سنن ابی دائود میں اس کو غیر محفوظ لکھا ہے۔ ( لايلتفت) کالفظ ہی صحیح ہے۔یعنی آپ لوگوں کی طرف ملتفت ہو رہے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت