فهرس الكتاب

الصفحة 1929 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: مزدلفہ میں نماز کا بیان

1929 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ قَالَ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ

عبداللہ بن مالک ( بن حارث ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ۔ مالک بن حارث نے ان سے کہا: یہ کس طرح کی نماز ہے ؟ انہوں نے کہا: میں نے ان کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس جگہ ایک ہی تکبیر کے ساتھ پڑھا ہے ۔

اس حدیث میں ایک ہی تکبیر سے دو نمازوں کے پڑھنے کا زکر ہے۔جبکہ ہرنماز کے لئے الگ الگ سے اقامت کہناصحیح تر احادیث سے ثابت ہے۔ (صحیح البخاری الحج حدیث ۔1673) اسی حدیث کی بابت شیخ البانی کہتے ہیں۔کہ یہ روایت (لکل صلاۃ) (یعنی ہرنماز کےلئے الگ الگ تکبیر کہی ) کی زیادتی کے ساتھ صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت