فهرس الكتاب

الصفحة 1928 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: مزدلفہ میں نماز کا بیان

1928 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ح و حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ قَالَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَمْ يُنَادِ فِي الْأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا قَالَ مَخْلَدٌ لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا

عثمان بن عمر ؓ نے ابن ابی ذئب سے انہوں نے زہری سے یعنی امام احمد بن حنبل عن حماد کی سند سے اور اس کے ہم معنی بیان کیا کہ ہر نماز کے لیے ایک اقامت کہی ۔ اور پہلی میں اذان نہیں دی اور نہ کسی کے بعد سنتیں پڑھیں ۔ مخلد نے کہا: ان میں سے ایک کے لیے اذان نہیں دی ۔

علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں۔کہ یہ روایت صحیح ہے۔البتہ (لم یناد۔۔۔) کے الفاظ صحیح نہیں ہیں۔اس لیے کہ ایک مرتبہ تو اذان دی گئی بنا بریں اذان کی نفی صحیح نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت