فهرس الكتاب

الصفحة 1937 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: مزدلفہ میں نماز کا بیان

1937 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " عرفات سارا ہی مقام وقوف ہے اور منٰی سارا ہی قربان گاہ ہے اور مزدلفہ پورا ہی وقوف کی جگہ ہے ۔ اور مکہ کے سب راستے ( یہاں آنے کی ) راہ ہیں اور قربان گاہ بھی ۔ "

عرفات مزدلفہ اور منیٰ میں رسول اللہﷺ کے مقام ہائے وقوف معروف ہیں۔اگر بغیر کسی اذدھام واذیت دینے کے ان مقامات پر وقوف کا موقع مل جائے تو شرف ہے ورنہ ثواب سبھی جگہ برابر ہے۔اسی طرح مکے میں داخلے کے لئے کداء والی جانب افضل ہے ورنہ کہیں سے بھی آیا جاسکتا ہے۔اسی طرح قربانی کے لئے منیٰ افضل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت