فهرس الكتاب

الصفحة 1938 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: مزدلفہ میں نماز کا بیان

1938 حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوْا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ فَخَالَفَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ

عمر بن خطاب ؓ نے بیان کیا کہ اہل جاہلیت ( مزدلفہ سے ) اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک کہ کوہ ثبیر پر سورج کو ( طلوع ہوتا ) نہ دیکھ لیتے ۔ سو نبی کریم ﷺ نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے ہی وہاں سے روانہ ہو لیے ۔

مزدلفہ سے روانگی کا اصل وقت نمازفجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے ہے صرف ضعیفوں کے لئے رخصت ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد جاسکتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت