فهرس الكتاب

الصفحة 1967 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: جمرات کو کنکریاں مارنا

1967 حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ رَاكِبًا وَرَأَيْتُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ حَجَرًا فَرَمَى وَرَمَى النَّاسُ

سلیمان بن عمرو بن الاحوص کی والدہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا ۔ آپ ﷺ سواری پر تھے ۔ میں نے آپ ﷺ کی انگلیوں میں کنکریاں دیکھیں ۔ آپ ﷺ نے وہ ماریں تو پھر اور لوگوں نے بھی ماریں ۔

لفظ حجرکا ترجمہ کنکریاں دوسری روایات کی بنا پر صحیح ہے نیز اسی روایات میں [بين اصابعه ] یعنی انگلیوں کے بیچ میں کا لفظ بھی موجود ہے ۔ ورنہ معروف معنوں میں پتھر مارنا تو جائز نہیں ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت