فهرس الكتاب

الصفحة 1978 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: جمرات کو کنکریاں مارنا

1978 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ الْحَجَّاجُ لَمْ يَرَ الزُّهْرِيَّ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ

سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جب تم میں سے کوئی ( دسویں تاریخ کو ) جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لیے بیویوں کے سوا ہر شے حلال ہو گئی ۔ " امام ابوداؤد ؓ نے کہا: یہ حدیث ضعیف ہے ۔ حجاج ( حجاج بن ارطاۃ ) نے زہری کو نہ دیکھا ہے اور نہ اس سے کچھ سنا ہے ۔

اس حدیث کی صحت وضعف میں اگرچہ اختلاف ہےتاہم دیگر احادیث سے مسئلہ اسی طرح ثابت ہے کہ دسویں تاریخ کو زمی کے بعد حاجی کے لیے بیوی کے علاوہ دیگر ممنوعات حلال ہو جاتی ہیں ۔ اسے اصطلاحًا حل ناقص یا حل اصغرکہتے ہیں طواف افاضہ کے بعد بیوی سے بھی مباشرت ( ہم بستری ) ہو سکتی ہےاوراسےحل کامل یا حل اکبر کہتے ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت