فهرس الكتاب

الصفحة 1983 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: سر منڈانے یا کتروانے کا بیان

1983 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْأَلُ يَوْمَ مِنًى فَيَقُولُ لَا حَرَجَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ قَالَ إِنِّي أَمْسَيْتُ وَلَمْ أَرْمِ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ

سیدنا ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے منٰی کے دنوں میں سوالات کیے جاتے تھے اور آپ ﷺ فرماتے تھے " کوئی حرج نہیں ۔" ایک شخص نے سوال کرتے ہوئے کہا: میں نے قربانی سے پہلے بال مونڈ لیے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " قربانی کرو اور کوئی حرج نہیں ۔ " ایک نے کہا: میں نے شام کر دی ہے اور رمی نہیں کی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " رمی کرو اور کوئی حرج نہیں ۔ "

یوم النحر (دسویں تاریخ) اعمال اگر اس ترتیب سے ہوں کہ پہلے رمی جمرہ پھرقربانی حجامت اور طواف افاضہ ہو تو بہت ہی افضل ہے۔ورنہ آگے پیچھے بھی جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت