فهرس الكتاب

الصفحة 2013 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: وادی محصب( ابطح )میں اترنے کا بیان

2013 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَأَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْبَطْحَاءِ ثُمَّ هَجَعَ بِهَا هَجْعَةً ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ

سیدنا ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بطحاء میں ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں ، پھر کچھ دیر سوئے ، پھر مکہ میں داخل ہوئے ۔ اور ابن عمر ؓ ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔

ایام تشریق میں رمی جمرات زوال کے بعد ہوتی ہے۔آخری دن نبی کریمﷺ زوال ہوتے ہی منیٰ سے روانہ ہوگئے رمی کی اور پھر بطحا میں آکر نماز ظہر پڑھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت