2037 حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ ثِيَابَهُ فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ
سلیمان بن ابی عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے حرم مدینہ میں ، جسے کہ رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا ہے ، ایک آدمی کو شکار کرتے پکڑ لیا اور اس کے کپڑے چھین لیے تو اس شخص ( غلام ) کے مالک آئے اور اس کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے " جو شخص کسی کو اس میں شکار کرتا پکڑ لے ، تو وہ اس کے کپڑے ضبط کر لے ۔ " چنانچہ وہ غنیمت جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عنایت فرمائی ہے واپس نہیں کروں گا ۔ ہاں اگر چاہو تو اس کی قیمت دے دیتا ہوں ۔
اس روایت میں شکار کرنے کے الفاظ منکر ہیں۔صحیح الفاظ کاٹنے کے ہیں۔ جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔