فهرس الكتاب

الصفحة 2038 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: حرم مدینہ کا بیان

2038 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ وَقَالَ مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ

سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ کے ایک غلام سے مروی ہے کہ انہوں نے مدینہ کے کچھ غلاموں کو دیکھا کہ وہ ( حرم ) مدینہ میں درخت کاٹ رہے ہیں ۔ تو انہوں نے ان کا اسباب چھین لیا اور ان غلاموں کے مالکوں سے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے مدینہ کے درختوں سے کچھ کاٹنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور فرمایا ہے " جو کوئی ان سے کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑ لے تو اس کا اسباب اسی کے لیے ہے ( اس کے کپڑے ، کلہاڑی اور رسی وغیرہ ) ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت