فهرس الكتاب

الصفحة 2090 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: آیت کریمہ : «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن»

2090 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: {لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: 19] ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَرِثُ امْرَأَةَ ذِي قَرَابَتِهِ، فَيَعْضُلُهَا، حَتَّى تَمُوتَ، أَوْ تَرُدَّ إِلَيْهِ صَدَاقَهَا، فَأَحْكَمَ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ، وَنَهَى، عَنْ ذَلِكَ.

سیدنا ابن عباس ؓ سے آیت کریمہ «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» کی تفسیر میں مروی ہے کہ آدمی اپنے قریبی کہ وراثت میں اس کی بیوی کا بھی وارث بن جاتا تھا اور اسے روکے رکھتا تاآنکہ وہ مر جاتی یا اسے اپنا حق مہر واپس کرتی تو اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اس عمل سے منع فر دیا ۔

(حکم اللہ عن ذلک ) کے معنی ہیں ،اللہ نے اس سے روک دیا کہتے ہیں (احکمت فلانا۔۔۔۔۔) میں نے اسے روک دیا اسی طرح حاکم کو بھی حاکم اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ظلم سے روکتا ہے۔ (اتھایة لابن الائير)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت