فهرس الكتاب

الصفحة 2100 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: بیوہ کا مسئلہ

2100 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا.

سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " ولی کو بیوہ کے معاملے میں کوئی دخل حاصل نہیں ہے ۔ اور یتیم لڑکی سے مشورہ کیا جائے اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے ۔ "

بیوہ جہاں کا عندیہ دے ،ولی کے لئے وہیں نکاح کرنا زیادہ مستحسن ہے بشرطیکہ کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت