فهرس الكتاب

الصفحة 2146 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: بیویوں کو مارنے کا مسئلہ

2146 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ >لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِلَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ، لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ.

ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اللہ کی بندیوں کو مت مارا کرو ۔ " تو سیدنا عمر ؓ ، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: عورتیں اپنے شوہروں کے سر چڑھنے لگی ہیں ۔ پس آپ ﷺ نے ان کو مارنے کی رخصت دے دی ۔ تب رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے پاس عورتیں بہت زیادہ آنے لگیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی تھیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " محمد ( ﷺ ) کے گھر والوں کے پاس عورتیں بہت زیادہ آئی ہیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کرتی ہیں ۔ ایسے لوگ کوئی اچھے آدمی نہیں ہیں ۔ " امام ابوداؤد ؓ نے ہمیں کہا کہ زہری کے شیخ کا نام عبداللہ بن عبداللہ ہی ہے ( نہ کہ عبیداللہ ۔ )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت