فهرس الكتاب

الصفحة 2147 من 5274

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

باب: بیویوں کو مارنے کا مسئلہ

2147 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ.

سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " شوہر سے بیوی کو مارنے کے سلسلے میں سوال نہیں کیا جائے گا ۔ "

اگرتادیب کی ضرورت ہو،زبانی اور بےرخی سے بیوی اپنے معاملے کوسلجھاتی نہ ہوتو مارنے کی رخصت ہےجیسے کہ سورہ نساء آیت 34 میں آیا ہے۔یہ روایت بعض ائمہ کےنزدیک ضعیف ہے۔صحیح ہونے کی صورت میں میں اس کا مطلب وہ مارہے ، جس کی اجازت شریعت نےدی ہے۔یعنی ہلکی سی مار ، جس کامقصد بیوی کی اصلاح اور اسے متنبہ کرنا ہو۔اگر خاوند ظلم کرے گا ، حدسے تجاوز کرے گا یا اسے بلاوجہ مارے پیٹے گا تووہ ظالم ہوگا جس کا اسے حساب دینا پڑے گا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت