2158 حَدَّثَنَاالنُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَامَ فِينَا خَطِيبًا، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: >لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ -يَعْنِي: -إِتْيَانَ الْحَبَالَى-، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ.
حنش صنعانی ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ؓ ہم میں خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو کہا: میں تمہیں وہی بات کہوں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ۔ آپ نے ہمیں حنین والے دن فرمایا تھا " جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ کسی دوسرے کی کھیتی کو اپنا پانی دے ۔ " آپ کی مراد تھی کہ حاملہ عورتوں سے مباشرت " اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ قید میں آنے والی کسی عورت سے استبراء ( رحم صاف ہونے ) سے پہلے مباشرت کرے ، اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ غنیمت کو تقسیم ہو جانے سے پہلے فروخت کرے ۔ "
1:مومن مسلمان کے لئے اللہ اور یوم آخرت کے حوالے سے بات کرنا انتہائی اہمیت اور تاکید کی حامل ہوتی ہے ۔
2:دوسرے کی کھیتی کو پانی دینا دوسرے کی بیوی سے مباشرت کرنا ۔یعنی زنا تو حرام ہے ،مگر لونڈی کو جنگ میں ہاتھ آئی ہو استبراء سے پہلے اس سے قربت جائز نہیں۔ اگر حاملہ ہو تو وضع حمل کا انتظار واجب ہے ۔
3: غنیمت میں اپنا حصہ متعین اور حاصل کرنے سے پہلے اس کو فروخت کرنا دھوکے کی ایک صورت ہے ،نہ معلوم تھوڑا ملے گا یا زیادہ اور کس قیمت کا ہو گا ؟