2233 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ، قَالَتْ كَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا: >فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بریرہ کے قصے میں بیان کرتی ہیں کہ اس کا شوہر غلام تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو اختیار دیا تو اس نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا ۔ اگر شوہر آزاد ہوتا تو اس کو اختیار نہ دیتے ۔
شیخ البانی ؒ کہتے ہیں کہ حدیث میں آخری جملہ: اگر شوہر آزاد ہوتا۔۔۔۔ مدرج ہے جو کہ عروہ کا قول ہے۔ (صحیح سنن ابی داود للالبانی حدیث:2233) تاہم مسئلے کی نوعیت یہی ہے کہ اگر شوہر آزاد ہو تو پھر لونڈی کو اختیار حاصل نہیں ہوگا۔