2243 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ؟ قَال:َ >طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ.
سیدنا فیروز ( دیلمی ) ؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے اسلام قبول کیا ہے اور میری زوجیت میں دو بہنیں ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے دو ۔ "
1۔اسلام سے پہلے کے نکاح اسلام میں صحیح تسلیم کیے جاتے ہیں۔الا یہ کہ اس میں کوئی اسلامی حرمت موجود ہو۔مثلًا چار سے زیادہ بیویاں ہوں یا دو بہنیں نکاح میں ہوں۔
2۔آخری حدیث کر راوی فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں اور انہوں ہی نے عہد نبوی میں مدعی نبوت اسود کو قتل کیا تھا۔ (تقریب التھذیب)
3۔اسلام قبول کرتے ہی انسان پر شرعی احکام نافذ ہوجاتے ہیں اور جب ہوجاتا ہے کہ کسی پس وپیش کے بلاتاخیر ان پر عمل کیا جائے جیسے کہ ان واقعات سے واضح ہے۔