فهرس الكتاب

الصفحة 2280 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب:( ماں باپ میں علیحدگی ہو جائے تو )بچے( کی نگہداشت اور تربیت )کا کون زیادہ حقدار ہے؟

2280 حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئٍ وَهُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ تَبِعَتْنَا بِنْتُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمُّ! يَا عَمُّ! فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ: دُونَكِ بِنْتَ عَمِّكِ فَحَمَلَتْهَا... فَقَصَّ الْخَبَرَ. قَالَ: وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي، وَخَالَتُهَا تَحْتِي، فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ.

سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو حمزہ کی بیٹی ہمارے پیچھے آ گئی ، وہ چچا چچا پکار رہی تھی ۔ پس سیدنا علی ؓ نے اس کو لیا اور اس کا ہاتھ پکڑا اور ( سیدہ فاطمہ ؓا سے ) کہا: اپنی چچا زاد کو لے لو ۔ چنانچہ سیدہ فاطمہ ؓا نے اس کو اٹھا لیا ۔ اور خبر بیان کی ۔ سیدنا جعفر ؓ نے کہا: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری زوجیت میں ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا فیصلہ خالہ کے حق میں کر دیا اور فرمایا " خالہ ماں کی طرح ہوتی ہے ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت