2349 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ح، وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ الْمَعْنَى، عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: 187] , قَالَ: أَخَذْتُ عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ، فَوَضَعْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، فَقَال:َ >إِنَّ وِسَادَكَ لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ، إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ. وقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ، وَبَيَاضُ النَّهَارِ.
سیدنا عدی بن حاتم ؓ کا بیان ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» " ( تم کھاتے پیتے رہو ) یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے ۔ " تو میں نے دو رسیاں لے لیں ' ایک سفید اور دوسری سیاہ اور انہیں اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا ۔ میں انہیں دیکھتا رہا مگر وہ میرے لیے نمایاں اور واضح نہ ہوئیں ۔ میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ ہنسے اور فرمایا " تیرا تکیہ تو بہت لمبا چوڑا ہے ۔ اس سے مراد تو رات اور دن ہے " عثمان کے الفاظ یہ ہیں " اس سے مراد تو رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔ "
اس سے معلوم ہوا کہ فہم قرآن کے لیے محج الفاظ کا ترجمہ یا لغوی مفہوم کافی نہیں بلکہ عربی ادب کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ شارع علیہ السلام کی تشریحات (احادیث) کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے۔