2374 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَنِ الْحِجَامَةِ وَالْمُوَاصَلَةِ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُمَا, إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ؟! فَقَال:َ إِنِّي أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ، وَرَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي.
جناب عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک صحابی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ پر شفقت فرماتے ہوئے ، انہیں سینگی لگوانے اور روزوں میں وصال کرنے سے منع کیا مگر آپ ﷺ نے ان دونوں کو حرام نہیں کیا ۔ آپ ﷺ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول ! آپ تو سحر تک وصال کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا " میں سحر تک وصال کرتا ہوں اور میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۔ "
غالبا شواہد ہی کی بنیاد پر بعض حضرات نے اس حدیث کو صحیح بھی کہا ہے۔