269 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ سَمِعْتُ خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ, تَقُولُ: كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ، وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ, فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، وَإِنْ أَصَابَ -تَعْنِي: ثَوْبَهُ- مِنْهُ شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا کہتی تھیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی چادر میں رات گزارتے اور میں حیض سے ہوتی ، اگر آپ کو مجھ سے کچھ لگ جاتا تو اتنی جگہ دھو لیتے اور اس سے آگے نہ بڑھتے اور نماز پڑھ لیتے ۔ اور اگر کپڑے کو کچھ لگ جاتا تو بھی اسی قدر جگہ دھوتے اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی میں نماز پڑھ لیتے ۔
(1) دین وشریعت او رطہارت کی حدود واضح کرنے کے لیے ہی یہ مخفی حقائق بیان ہوئے ہیں تاکہ امت کے لیے دنیا وآخرت میں آسانی رہے ۔ ورنہ عام مسلمان میاں بیوی کے لیے اپنے مخفی امور کاذکر کرنا درست نہیں ہے ۔ (2) خون حیض نجس ہے ۔ (3) جو حصہ جسم کا یا کپڑے کا آلودہ ہو اسی قدر دھونا واجب ہے ، نہ کہ سارا جسم یا سارا کپڑا۔