فهرس الكتاب

الصفحة 2846 من 5274

کتاب: شکار کے احکام و مسائل

باب: شکار وغیرہ کے لیے کتا رکھنے کا بیان

2846 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنْ كَانَتْ الْمَرْأَةُ تَقْدَمُ مِنْ الْبَادِيَةِ يَعْنِي بِالْكَلْبِ فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَانَا عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ

سیدنا جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ( ابتدائی ایام میں ) کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا حتیٰ کہ اگر کوئی عورت دیہات سے آتی اور اس کے ساتھ کتا ہوتا تو ہم اسے بھی قتل کر ڈالتے تھے ، اس کے بعد آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع کر دیا اور فرمایا " صرف کالے کتوں کو مارو ۔"

کالا کتا اور بالخصوص وہ جسکی آنکھوں پر دو نقطے سے ہوں۔اسے شیطان سے تعبیر کیا گیاہے۔اس لئے اسے مارنے کا حکم ہے۔اگر کسی آبادی میں عام کتے بڑھ جایئں اور لوگوں کے لئے اذیت کا باعث ہوں۔تو ان کوقتل کرنا اور کم کرنا بھی جائز ہےلیکن بالکل فنا کردینا بھی جائز نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت