فهرس الكتاب

الصفحة 2861 من 5274

کتاب: شکار کے احکام و مسائل

باب: شکار کے پیچھے پڑے رہنا کیسا ہے ؟

2861 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَأَدْرَكْتَهُ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَهْمُكَ فِيهِ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ

حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے' نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جب تم شکار کو ( تیر ) مارو اور پھر تین رات کے بعد اسے پاؤ جبکہ تمہارا تیر اس میں ہو تو اسے کھا لو ۔ جب تک کہ بو نہ دینے لگے ۔ "

حسب طلب وضرورت شکار کرنااوراس کی تلاش میں جانا کوئی معیوب نہیں معیوب یہ ہے کہ انسان اپنے دیگر دینی ودنیاوی فرائض سے غافل ہوجائے۔2۔کھانے پینے کی چیزوں کا ذائقہ اور بو اس انداز سے بگڑ جائے کہ نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔تواستعمال نہیں کرنی چاہیں۔ہاں اگرکوئی ضرور واضح نہ ہو تو جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت