فهرس الكتاب

الصفحة 2889 من 5274

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

باب: جس شخص کی اولاد نہ ہو اور کئی بہنیں وارث ہوں

2889 حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلَالَةِ فَمَا الْكَلَالَةُ قَالَ تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَقَ هُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا قَالَ كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّهُ كَذَلِكَ

سیدنا براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اﷲ کے رسول ! لوگ آپ سے " کلالہ " کے بارے میں فتوی چاہتے ہیں ' تو اس " کلالہ " سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے ( اس کی توضیح میں ) فرمایا " تجھے وہ آیت کافی ہے جو گرمی کے موسم میں نازل ہوئی ہے ۔ " ( راوی ابوبکر کہتے ہیں ) میں نے ابواسحٰق سے کہا: ( کیا کلالہ وہ نہیں کہ ) جو فوت ہو جائے اور نہ اولاد چھوڑ جائے اور نہ والد ؟ انہوں نے کہا: علماء ایسے ہی کہتے ہیں ۔

۔ (کلالہ) کازکر سورہ نساء میں دو جگہ ہے۔ایک آیت نمبر 12 میں

(وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ) النساء12/4)

یہ آیت سردیوں میں نازل ہوئی جبکہ سورہ نساء کی آیت جس کا زکراوپر کی احادیث میں ہوا ہے گرمیوں میں نازل ہوئی۔سورہ نساء کی آیت کریمہ 176) میں کلالہ اسے کہاگیا ہے کہ جس کی اولاد نہ ہو۔اور بہن بھائی موجود ہوں۔جبکہ اکثر صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کلالہ اسے کہتے ہیں۔ کے جس کی اولاد نہ ہو اور والد بھی نہ ہو۔تو یہ اضافہ حدیث جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ماخوذ ہے کہ جب ان کے بارے میں یہ آیت اتری نہ ان کی اولاد تھی نہ ان کے والد اور یہ مثال ہے کہ احادیث قرآن مجید کی توضیح وتبیین کرتی اور بعض اوقات اس پراضافہ بھی بیان کرتی ہیں۔ (خطابی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت