فهرس الكتاب

الصفحة 2893 من 5274

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

باب: صلبی اولاد کی وراثت کا بیان

2893 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ

سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے ایک بہن اور ایک بیٹی کو میت کا وارث بنایا اور ہر ایک کو آدھا آدھا دیا جبکہ سیدنا معاذ ؓ ان دنوں یمن میں تھے اور رسول اللہ ﷺ باحیات تھے ۔

بہنیں بیٹیوں کےساتھ مل کر عصبہ مع الغیر (ہر وہ مونث جوکسی دوسری مونث کی وجہ سے عصبہ بنے۔اس میں صرف حقیقی بہن اور پدری بہن آتی ہے۔ جب بیٹی یا پوتی ساتھ مل کرآئے) ہوجاتی ہیں۔بیٹی اور بہن ایک ایک ہوں۔تو نصف نصف ملے گا۔بیٹی کو وراثت سے نصف ملے گا۔اور بہن کوعصبہ ہونے کی بنا پر نصف مل جائے گا۔ اور اگربیٹیاں دو یا زائد ہوں۔ تودو تہائی کے بعد باقی بہن یا بہنوں کوملے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت