فهرس الكتاب

الصفحة 2910 من 5274

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

باب: کیا مسلمان کسی کافر کا وارث ہو سکتا ہے؟

2910 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حِجَّتِهِ قَالَ وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِي الْمُحَصَّبِ وَذَاكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوهُمْ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي

سیدنا اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ مین نے حجتہ الوداع کے موقع پر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! آپ کل کہاں اتریں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا بھی ہے ؟ " پھر فرمایا " ہم خیف بنی کنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش نے کفر پر قسمیں اٹھائی تھیں ۔ " آپ ﷺ کی مراد وادی محصب تھی اور قریشیوں نے اس جگہ بنو ہاشم کے خلاف قسمیں کھائی تھیں کہ ان سے رشتہ ناتا کریں گے ' نہ کچھ خریدیں بیچیں گے اور نہ انہیں پناہ دیں گے ۔ زہری ؓ فرماتے ہیں «خيف» وادی کا نام ہے

فائدہ۔ابو طالب کی وفات کے موقع پر عقیل اسلام نہ لائے تھے اسی وجہ سے وہی اس کے وارث ہوئے۔ جبکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان ہوچکے تھے۔اس لئے وو اختلاف دین کی وجہ سے اپنے باپ کے وارث نہ بنے۔اور عقیل جوں ہی عبد المطلب کی جایئداد کے مالک بنے۔انہوں نے اس کوفروخت کردیا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت