فهرس الكتاب

الصفحة 2911 من 5274

کتاب: وراثت کے احکام و مسائل

باب: کیا مسلمان کسی کافر کا وارث ہو سکتا ہے؟

2911 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى

سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " دو مختلف ملتوں ( اور دینوں ) والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے

فائدہ۔اس سے مراد مسلمان اور کافر ہیں۔جبکہ کفار اپنے مختلف دینوں پر ہوتے ہوئے بھی ایک ملت ہیں اس لئے ان کی آپس میں وراثت چلتی ہے۔جبکہ امام زہری ابن ابی لیلیٰ اور احمد بن حنبل کے اقوال ہیں کہ یہودی نصرانی کاوارث نہیں۔مجوسی یہودی کا نہیں۔وغیرہ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت