3076 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْآمُلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْأَرْضَ أَرْضُ اللَّهِ وَالْعِبَادَ عِبَادُ اللَّهِ وَمَنْ أَحْيَا مَوَاتًا فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ جَاءَنَا بِهَذَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ جَاءُوا بِالصَّلَوَاتِ عَنْهُ
جناب عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے ' وہ کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا تھا کہ زمین اﷲ کی ہے اور بندے بھی اﷲ کے ہیں ' تو جس نے کوئی بنجر لاوارث زمین آباد کی ' تو وہی اس کا مالک ہے ۔ ہمیں یہ بات نبی کریم ﷺ سے انہی لوگوں نے بیان کی ہے جنہوں نے آپ ﷺ سے نمازوں کے احکام بیان کیے ہیں ۔
فائدہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے صرف عبادات ہی کے احکام نہیں بتائے۔بلکہ مع۔املات اورحقوق کے مسائل بھی واضح کیے ہیں۔جیسے کہ نماز روزے کے احکام جس طرح عبادات میں نبی کریم ﷺ کا فرمان قول فیصل ہے اسی طرح معاملات میں بھی آپ ﷺ ہی کا فرمان حق وانصاف اوردنیا و آخرت میں باعث نجات ہے۔