فهرس الكتاب

الصفحة 3136 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: شہید کو غسل دینے کا مسئلہ ؟

3136 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ يَعْنِي الْمَرْوَانِيَّ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْمَعْنَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حَمْزَةَ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا وَقَلَّتْ الثِّيَابُ وَكَثُرَتْ الْقَتْلَى فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ زَادَ قُتَيْبَةُ ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ

سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا حمزہ ؓ کے پاس سے گزرے جب کہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا ۔ ( ان کی نعش سے ناک اور کان وغیرہ کاٹ لیے گئے تھے ) تو آپ ﷺ نے فرمایا " اگر یہ بات نہ ہو کہ ( ان کی بہن ) صفیہ ( ؓا ) سے برداشت نہیں ہو سکے گا تو میں اسے ( سیدنا حمزہ کی نعش کو ) ایسے ہی چھوڑ دوں حتیٰ کہ اسے درندے اور پرندے کھا جائیں اور پھر یہ ان کے پیٹوں ہی سے محشر میں آئیں ۔ " اور ( احد میں ) کپڑے کم پڑ گئے اور مقتولین کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو ایک ایک دو دو اور تین تین کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا ۔ قتیبہ نے مزید کہا: اور ایک ایک قبر میں دفن کیے گئے ۔ رسول اللہ ﷺ ان کے متعلق دریافت فرماتے جاتے تھے کہ ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے ؟ پھر اسے قبلہ کی جانب آگے کر دیتے تھے ۔

عالم دین اور حاٖفظ قرآن موت کے بعد بھی دوسروں سے آگے ہوتا ہے۔اور اللہ کی راہ میں آنے والی ازیت جس قدربھی ہو اللہ کے ہاں رفع درجات کا باعث ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت