فهرس الكتاب

الصفحة 3174 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: میت کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ

3174 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ حَدَّثَنِي جَابِرٌ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً فَقُومُوا

سیدنا جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا ' آپ ﷺ اس کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ جب ہم نے اس کو کندھا دینا چاہا تو معلوم ہوا کہ یہ یہودی کا جنازہ ہے ۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! یہ یہودی کا جنازہ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " بلاشبہ موت ایک المناک حادثہ ہے ' جب تم کوئی جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو ۔ "

اس حدیث میں کھڑ ے ہونے کا حکم ہے۔لیکن اس کے بعد والی روایت میں صراحت ہے۔کہ بعد میں نبی کریم ﷺبیٹھنے لگ گئے تھے۔اس لئے کھڑے ہونے کا حکم منسوخ ہے۔یا پھردونوں ہی باتیں جائز ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت