3252 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي فِي حَدِيثِ قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ
جناب طلحہ بن عبیداللہ نے بدوی کے واقعہ والی حدیث میں بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " کامیاب ہوا ' قسم اس کے باپ کی ! اگر سچا ( ثابت قدم ) رہا ۔ جنت میں داخل ہوا ' قسم اس کے باپ کی ! اگر یہ سچا ( ثابت قدم ) رہا ۔ "
اس روایت میں (وابیہ) کا لفظ شاذ اور ضعیف ہے۔ (علامہ البانی) تاہم اس کی یہ تاویل بھی کی جاتی ہے۔ کہ یہ قصہ غیر اللہ کی قسم سے منع کرن سے پہلے کاہے۔یا یہ کلام عامۃ الناس کے اسلوب پرہے۔ اس میں قسم کا معنی مراد نہیں ہے۔اور کچھ نے کیا کہ اس میں لفظ رب مخذوف اور اصل یوں ہے۔ (ورب ابیہ) اس کے باپ کے رب کی قسم۔علامہ سہیلی نے کہا کہ اس میں تعجب کے معنی ہیں۔ (نیل الاوطار باب الحلف باسماء اللہ وصفاتہ257/8)