3302 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ
سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ۔ آپ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے کہ دوسرا اسے نکیل ڈال کر لیے جا رہا تھا تو نبی کریم ﷺ نے اس کی نکیل کو اپنے ہاتھ سے توڑ ڈالا اور اسے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر چلے ۔
کسی کا نکیل ڈال کرچلنا یا اسے چلانا انسانی شرف کی توہین ہے۔اسلامی شریعت اور اس قسم کی جہالتوں سے انسانوں کو آذاد کرنے کےلئے آئے ہیں۔ ( َ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ) (الاعراف۔157) اور آپ (ﷺ) ان لوگوں پرجو بوجھ اور طوق تھے ان کو اتارتے ہیں۔