3369 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقَسَّمَ وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بِغَيْرِ حِزَامٍ
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ غنیمتوں کو تقسیم سے پہلے ہی فروخت کر دیا جائے یا کھجوروں کو فروخت کیا جائے حتیٰ کہ تمام عوارض سے محفوظ ہو جائیں اور اس سے بھی منع کیا ہے کہ انسان کمر بند ( پیٹی ) کے بغیر نماز پڑھے ۔
کمر بند باندھنے کی تلقین اس لئے ہے۔کہ وہ لوگ شلوار بہت کم استعمال کرتے تھے۔اور اگرچادر کو اچھی طرح لپیٹا نہ گیا ہو۔تواندیشہ رہتاہے۔کہ انسان کہیں عریاں نہ ہوجائے۔یہ خدشہ ہی نماز سے توجہ ہٹانے کےلئے کافی ہے۔