فهرس الكتاب

الصفحة 3441 من 5274

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

باب: شہری کو دیہاتی کا مال بیچنا منع ہے

3441 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ بِحَلُوبَةٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى السُّوقِ, فَانْظُرْ مَنْ يُبَايِعُكَ، فَشَاوِرْنِي حَتَّى آمُرَكَ أَوْ أَنْهَاكَ.

جناب سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی ایک دودھ والی اونٹنی لایا اور سیدنا طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے ہاں ٹھہرا ( اور چاہا کہ طلحہ اسے فروخت کر دیں ) تو طلحہ نے کہا: بیشک نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے فروخت کرے ۔ لیکن تم خود بازار جاؤ اور دیکھو کہ کون تم سے خریدنا چاہتا ہے ۔ پھر مجھ سے مشورہ کر لینا حتیٰ کہ میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم نے اس سے سودا کرنا ہے یا نہیں ۔

فائدہ۔یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ تاہم اس میں شبہ نہیں کہ خیر القرون میں مسلمان اتباع رسول اوراپنے مسلمان بھایئوں کے ساتھ خیر خواہی میں بہت ہی اونچے درجے پرتھے۔ اس واقعے میں نبی کریمﷺ کے فرمان کی رعایت ملحوظ رکھے ہوئے دوسرے مسلمان کی خیر خواہی کا بھی پورا اہتمام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت