فهرس الكتاب

الصفحة 347 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: جمعے کے لیے غسل کا بیان

347 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا

جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے وہ نبی کریم ﷺ سے راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا " جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور اپنی اہلیہ کی خوشبو استعمال کی ۔ اگر اس کے پاس ہو ، اور اپنے عمدہ کپڑے پہنے ، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں اور اثنائے وعظ میں ( خطبے کے دوران میں ) کوئی لغو عمل نہ کیا ، تو یہ ( نماز ) ان دونوں ( جمعوں ) کے مابین کے لیے کفارہ ہو گی اور جس نے کوئی لغو کام کیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگیں تو اس کے لیے یہ ظہر ہی ہو گی ( یعنی ظہر کی نماز کا ثواب ہو گا نہ کہ جمعے کا ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت