فهرس الكتاب

الصفحة 3684 من 5274

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

باب: نشہ کا بیان

3684 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ مِنْ الْعَسَلِ فَقَالَ ذَاكَ الْبِتْعُ قُلْتُ وَيُنْتَبَذُ مِنْ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ فَقَالَ ذَلِكَ الْمِزْرُ ثُمَّ قَالَ أَخْبِرْ قَوْمَكَ أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

سیدنا ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے شہد کی شراب کے متعلق نبی کریم ﷺ سے معلوم کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا " یہی بتع ہے ۔ " میں نے کہا کہ جَو اور مکئی سے بھی نبیذ ( نشہ آور مشروب ) بنایا جاتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " یہ مزر ہے ۔ " پھر آپ ﷺ نے فرمایا " اپنی قوم کو بتا دے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ "

فائدہ۔نبیذ کھجور یا کشمش وغیرہ سے بنایا جانے والا میٹھا مشروب مطلقًا حرام نہیں ہے۔یہ حرام اسی صورت میں ہوتا ہے۔ جب اس میں ترشی اور نشہ آجائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت