3685 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ ابْنُ سَلَامٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْغُبَيْرَاءُ السُّكْرُكَةُ تُعْمَلُ مِنْ الذُّرَةِ شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ
سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شراب ' جوئے ' سارنگی اور غبیراء سے منع فرمایا ہے ، اور فرمایا " ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ " امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ ابن سلام ابو عبید نے کہا کہ " غبیراء " مکئی جوار وغیرہ سے بنائی جانے والی شراب ہے جو اہل حبشہ بناتے ہیں ۔
فائدہ۔موسیقی کا بھی ایک معنوی نشہ ہوتا ہے۔ان میں سارنگی ڈھول ڈھولکی قسم کی مزامیر سبھی حرام ہیں۔صرف دف کی رخصت ملتی ہے۔