فهرس الكتاب

الصفحة 3726 من 5274

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

باب:( لوگوں کو )پلانے والا کب پیے ؟

3726 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

سیدنا انس بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ کو دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا ۔ اور آپ ﷺ کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب ابوبکر ؓ تھے ۔ آپ ﷺ نے دودھ پیا ، پھر اس دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا " داہنے والا ، پھر داہنے والا ۔ "

فائدہ۔ان دونوں حدیثوں سے واضح ہوا کہ ساقی خود آخر میں پیے۔اور جسے مجلس میں دودھ وغیرہ پیش کیاجائے۔وہ اوروں کی طرف بڑھائے۔تودایئں والے کودے اور پھر اسی طرح آگے پیش کیاجائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت