3735 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا قَالَ قُتَيْبَةُ هِيَ عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے لیے میٹھا پانی " سقیا " کے گھروں سے لایا جاتا تھا ۔ قتیبہ نے کہا: " سقیا " ایک چشمے کا نام تھا جو مدینے سے دو دن کی مسافت پر تھا ۔
فائدہ۔صاف ااور عمدہ پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔اس کے لئے اہتمام رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔جائز حدود میں رہتے ہوئے اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہونا زہد کے خلاف نہیں۔البتہ ان نعمتوں کاشکر ضروری ہے۔عجمی اور ہندی تصورات کے زیر اثر بعض صوفیاء ان فطری نعمتوں سے گریزاں رہنے کو دین سمجھتے ہیں۔جبکہ یہ تصوردرست نہیں۔