3734 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا قَالَ بَلَى قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ الْأَصْمَعِيُّ تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ
سیدنا جابر ؓ نے بیان کیا کہ ( ایک بار ) ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ نے پانی طلب فرمایا ، ایک شخص نے کہا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پیش کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " کیوں نہیں ۔ " چنانچہ وہ بھاگتا بھاگتا گیا اور ایک پیالہ لے آیا ، اس میں نبیذ تھی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں ؟ اس پر کوئی لکڑی ہی رکھ لیتا ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ ( امام لغت اصمعی ) اصمعی نے اس لفظ کو «تعرضه عليه» پڑھا ہے ۔ ( راء کے پیش کے ساتھ جبکہ دوسرے زیر سے پڑھتے ہیں ) ۔
فائدہ۔کھانے پینے کی اشیاء کو جب کچھ دوری تک ادھر ادھر لے جانا ہو تو مناسب یہ ہے کہ ڈھانپ کرلے جایاجائے۔