فهرس الكتاب

الصفحة 3886 من 5274

کتاب: علاج کے احکام و مسائل

باب: دم جھاڑ کا بیان

3886 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا

سیدنا عوف بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ ہم جاہلیت میں دم جھاڑ کیا کرتے تھے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے ! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " اپنے دم مجھے بتاؤ ، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ شرک نہ ہو ۔ "

ایسے دم جن کے الفاظ مفہوم و معنی میںواضح ہوں شرک کا شائبہ نہ ہو اور تجربے سے مفید ثابت ہو ئے ہوں ان سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت