باب: تعویذ گنڈے لٹکانا
3887 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ فَقَالَ لِي أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ
سیدہ شفاء بنت عبداللہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میں ام المؤمنین سیدہ حفصہ ؓا کے پاس تھی تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا " تم اس نملہ ( بچوں کی پسلیوں پر نکلنے والی پھنسیوں ) کا دم کیوں نہیں سکھا دیتی ہو جیسے کہ اسے لکھنا سکھایا ہے ۔ "
1)یہ دم کیا تھا؟ کسی مستند حدیث میں اسکے الفاظ نقل نہیں ہو ئے ہیں۔ تاہم اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی دم تجربے سے مُفید ثابت ہو چکا اور اس میں شکریہ الفاظ نہ ہوںاور ان کا معنی و مفہوم واضح ہوتو اس دم کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔
عورتوں کا لکھنا پڑھنا سیکھنا سکھانا جائز ہے